لاہور: تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں خفیہ تحقیق میں سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے۔بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے، جن میں محمد امین اور ان کی بہن عاصمہ بھی شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مرض ہسپتال میں عام طبی معائنے کے دوران غیر محفوظ انجیکشنز کے ذریعے منتقل ہوا۔خفیہ فلمنگ میں متعدد مواقع پر ایک ہی سرنج کو دوبارہ استعمال کرتے اور طبی عملے کو حفاظتی اقدامات، جیسے دستانے پہننے، کو نظرانداز کرتے دیکھا گیا، جس سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا۔
Latest Posts
تونسہ ہسپتال میں ایچ آئی وی متاثرہ بچوں میں ایک ہی سرنج بار بار استعمال ہونے کا انکشاف، خفیہ ویڈیو نے پول کھول دیاڈيالہ جیل حکام سے دستخط کیلئے موصول عمران خان کے وکالت نامےگم ہوگئے، وکیل کا دعویٰپاک بحریہ کا اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہبیوی کی جانب سے حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کرنے کے الزام پر اینکر پرسن جمیل فاروقی کا رد عمل بھی سامنے آگیاوزیراعلیٰ پنجاب کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو پریمیئر انویسٹی گیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ
