اسلام آباد : معروف نیوز اینکر جمیل فاروقی پر اپنی اہلیہ کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور ان پر مبینہ تشدد کے الزامات کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جمیل فاروقی نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا اور جھوٹی گواہیوں کے ذریعے انہیں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گھر پر حملے کا الزام جمیل فاروقی نے بتایا کہ واقعہ صبح ساڑھے دس بجے اس وقت پیش آیا جب ان کی اہلیہ کے 16 سے 17 مسلح رشتہ داروں نے ان کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لڑکی کے والدین پولیس اہلکاروں کو بھی ہمراہ لائے تھے، تاہم تشدد کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور حملہ آوروں کو نہیں روکا۔ اینکر نے وضاحت کی کہ ان کی عائشہ نامی خاتون سے شادی 12 فروری کو پسند کی بنیاد پر ہوئی تھی، جس کی باقاعدہ نکاح کی تقریب 13 فروری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں تمام گھر والے موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی اپنے والدین سے مسلسل رابطے میں تھی اور عید کے موقع پر اس کے والدین ان کے گھر بھی آئے تھے۔ حبسِ بے جا کے الزام پر جمیل فاروقی نے موقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ 2 ماہ کی حاملہ ہیں اور ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام اور دیکھ بھال کا مشورہ دیا تھا، اسی لیے وہ گھر پر تھیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ چار سال سے ڈپریشن کی ادویات استعمال کر رہی ہیں۔ جمیل فاروقی کا کہنا ہے کہ عدالت میں ان کے خلاف جھوٹی گواہی دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے سے دو روز قبل بھی لڑکی کے والدین نے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ ان کے گھر آکر شور شرابہ اور واویلا کیا تھا۔پولیس اور متعلقہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ الزامات کی حقیقت تک پہنچا جا سکے۔
Latest Posts
تونسہ ہسپتال میں ایچ آئی وی متاثرہ بچوں میں ایک ہی سرنج بار بار استعمال ہونے کا انکشاف، خفیہ ویڈیو نے پول کھول دیاڈيالہ جیل حکام سے دستخط کیلئے موصول عمران خان کے وکالت نامےگم ہوگئے، وکیل کا دعویٰپاک بحریہ کا اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہبیوی کی جانب سے حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کرنے کے الزام پر اینکر پرسن جمیل فاروقی کا رد عمل بھی سامنے آگیاوزیراعلیٰ پنجاب کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو پریمیئر انویسٹی گیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ
